غسل طہارت کے متعلق وسوسہ ہونے پر نماز کا کیا حکم ہے؟

غسل طہارت کے متعلق وسوسہ ہونے پر نماز کا کیا حکم ہے؟
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ.

اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ۔

الْمَآئِدَة، 5: 6

اس آیتِ مبارکہ سے احناف نے غسل کے تین فرائض ثابت کیے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

وَفَرْضُ الْغُسْلِ: الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَغَسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ.

غسل کے فرائض یہ ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پرپانی بہانا۔

مرغيناني، الهداية شرح البداية، فصل في الغسل، 1: 16، المكتبة الإسلامية

اور زین الدین ابن نجیم بیان کرتے ہیں:

وَفَرْضُ الْغُسْلِ غَسْلُ فَمِهِ وَأَنْفَهُ وَبَدَنِهِ.

غسل کے فرائض ہیں کہ منہ دھونا (کلی کرنا)، ناک (میں پانی ڈال کر) دھونا اور پورے جسم کو دھونا۔

ابن نجيم، البحرالرائق، كتاب الطهارة، 1: 47، بيروت: دار المعرفة

اس لیے غسلِ طہارت کے دوران اگر جنبی کلی نہ کرے یا ناک میں پانی نہ ڈالے یا جسم کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو جسم پاک نہیں ہوتا۔

بصورت مسئلہ اگر آپ نے تینوں فرائض یا ان میں سے کوئی ایک فرض چھوڑ دیا ہے تو غسل دوبارہ کریں، جو نمازیں اس دوران ادا کی گئی ہیں وہ بھی لوٹائی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں