کیا قرآن پاک پڑھ کر ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے؟

کیا قرآن پاک پڑھ کر ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے؟
سب سے پہلے ایک قاعدہ یاد کر لیں کہ دلیل منع کے لیے ہوتی ہے۔ آپ اعتراض کرنے والے سے سوال کریں کہ قرآن یا حدیث میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ قرآن کا ثواب مرنے والے کو نہیں پہنچتا؟ یہ قرآن وحدیث کا قاعدہ ہے کہ جو جائز نہیں ہے اس سے منع کر دیا گیا ہے، باقی سب جائز ہے۔ ہر نئی آنے والی چیز کو دیکھا جائے گا کہ اس میں ناجائز ہونے کی کوئی علت پائی جاتی ہے کہ نہیں، اگر نہ پائی جاتی ہو تو جائز ہوتی ہے۔ اس قاعدے کو سمجھنے کے لیے ایک عام فہم اور سادہ سی مثال درج ذیل ہے جو معرضین کے بہت سے سوالات کا ایک ہی جواب ہے : مثلا ہم روز مرہ زندگی میں پیدل یا گاڑی پر سفر کرتے ہیں تو کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوتا کہ آپ اس سڑک (Road) پر سے گزر سکتے ہیں۔ اس گلی (street) سے بھی گزر سکتے ہیں یا اس راستے سے بھی گزر سکتے ہیں۔ ہاں جس راستے سے منع کرنا ہو وہاں یہ ضرور لکھا ہوتا ہے، یہ شارع عام نہیں ہے (No Entry) یا یہاں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند ہے وغیرہ وغیرہ یا پھر کوئی رکاوٹ لگا کر راستے کو بند کر دیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جس راستے سے منع ہی نہیں کیا گیا اگر کوئی شخص کہے کہ آپ وہاں سے کیوں گزرے ہیں تو ہم یہی کہیں گے کہ شارع عام ہے جس کی مرضی ہے گزرے کوئی پابندی نہیں ہے۔ آپ کون ہوتے ہیں منع کرنے والے؟

لیکن افسوس آج کل کچھ نام نہاد اسلام کے ٹھیکیدار امت مسلمہ کو ہر اس نیکی کے کام سے منع کرتے ہیں جس میں مسلمانوں کا فائدہ ہو۔ یاد رکھیں ہر نیک کام کا ثواب مرنے والے کو پہنچایا جا سکتا ہے۔ کہیں بھی تعین نہیں کیا گیا کہ فلاں فلاں کام کا اجر وثواب میت کو پہنچایا جا سکتا ہے اور فلاں فلاں کا نہیں، جو کہتا ہے نہیں پہنچتا غلط کہتا ہے۔ قرآن وحدیث میں ایک مقام پر بھی نہیں ہے کہ قرآن مجید کا ثواب مرنے والے کو نہیں پہنچتا۔ یہ تو چند ضروری باتیں جو بیان کر دی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں